ایسے میں جبکہ اسرائیل ایران کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے، اس نے ویسٹ بینک میں اپنا محاذ کھول دیا ہے۔ ویسٹ بینک (مقبوضہ فلسطین) میں اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور گزشتہ دو دنوں میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اہم پیش رفت یہ ہے کہ ”تل“ نامی گاؤں، جو نابلس کے جنوب مغرب میں واقع ہے، میں اسرائیلی آبادکاروں، اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان واقعات میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دیں۔ متعدد دیہات میں چھاپے مارے گئے، درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا اور مختلف علاقوں میں ناکے اور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ویسٹ بینک میں مزید فوجی آپریشن کرے گی اور بعض اسرائیلی وزراء نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کو تیز کرنے کی بات بھی کی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے دوران آبادکاروں کے حملوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی یہ کارروائیاں مزید حملوں کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں جبکہ فلسطینی حکام کا مؤقف ہے کہ تشدد کی ابتدا مسلح آبادکاروں کے حملوں سے ہوئی۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت اقدامات اور ویسٹ بینک میں یہودی بستیوں کی توسیع کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے علاقے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک الگ پیش رفت میں یونیسکو نے شمالی ویسٹ بینک کے تاریخی مقام سبسطیہ (Sebastia) کو عالمی ثقافتی ورثہ اور خطرے سے دوچار مقام قرار دیا ہے۔ فلسطینی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جبکہ اسرائیل نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ اسرائیل کی اس تازہ جارحیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے”گریٹر اسرائیل“ کے منصوبے کے اگلے مرحلے پر عمل کرتے ہوئے اب ویسٹ بینک کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنے اس منصوبے کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ایران کو پہلے نشانہ بنایا لیکن اس کی یہ حرکت ایران کے جوابی طمانچے سے خود اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گئی۔
ہمارا اپنا یہ اندازہ تھا کہ وہ اپنی چہرے پر لگے ناکامی کے اس داغ کو مٹانے کے لیے، ویسٹ بینک کی نازک حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے اس کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنائے گا اور آخر وہی ہوا۔ کیونکہ ” کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے۔“ غزہ پر اسرائیل جارحیت کے مقابلے میں جو اسلامی ممالک خاموش رہے اور اب اہل یمن پر بمباری کر کے اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، قدرت نے انہیں پھر یہ موقع دیا ہے کہ اپنی توپوں کا رخ مظلوم اہل یمن کی جانب سے موڑ کر اپنے اور اسلامی دنیا کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کی جانب موڑ دیں ورنہ ان کا انجام بھی اس غاصب صیہونی حکومت کے انجام کے ساتھ لکھا جائے گا۔ یہی خدا کا ” وعدہء صادق “ ہے۔