1987ء میں جب سرزمین مکہ پر ایرانی حجاج ” براءت من المشرکین“ کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ”الموت لامریکہ“ کا نعرہ بلند کر رہے تھے تو امریکہ کے خلاف اس آواز کو دبانے کے لیے سعودی سیکیورٹی افواج ںے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر کے چھے سو کے قریب حجاج کرام کو شہید کر دیا۔ اب کی بار ان مجرموں نے امریکہ کے ساتھ مل کر سرزمین کربلا پر بمباری کی اور وہاں بیسیوں زائرین کو شہید کر دیا۔ مکہ مکرمہ میں جب ایرانی حاجیوں کو تہِ تیغ کیا گیا تو اس وقت رہبرِ کبیرِ انقلابِ اسلامی، امام خمینی نے فرمایا تھا کہ ” ہم صدام حسین کو تو معاف کر سکتے ہیں لیکن سعودی حکومت کو معاف نہیں کر سکتے کیونکہ اس نے حرم کے تقدس کو پامال کیا ہے۔“ پھر بدلتے حالات اور مصلحت کے تقاضوں کے پیش نظر سعودی حکومت سے تعلقات استوار کیے گئے۔ لیکن ! آل سعود اپنی بنیاد میں رکھے ہوئے تخم کی بدولت اپنی ناجائز حرکت سے باز نہیں آئی اور اب اس نے سرزمین کربلا کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا دیا۔ شاید یہ آل سعود کو دیے جانے والی معافی کا نتیجہ ہے۔ شاید !

By Tanveer Haider Naqavi

میں ایک لکھاری، صحافی، کالم نگار اور شاعر ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے