تاریخ کے صفحات صرف بادشاہوں کے نام محفوظ نہیں رکھتے، بلکہ وہ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب بھی اپنے دامن میں سموئے رکھتے ہیں۔ بعض قومیں بے شمار وسائل، جدید ترین اسلحے اور عالمی طاقتوں کی سرپرستی کے باوجود مٹ جاتی ہیں، جبکہ بعض قومیں ہر طرف سے گھیرے جانے کے باوجود زمانے کے سینے پر اپنی موجودگی ثبت کر دیتی ہیں۔ ایرانِ اسلامی کی داستان بھی اسی حقیقت کا ایک باب ہے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے آج تک ایران کو ایک لمحہ بھی سکون نصیب نہیں ہوا۔ کبھی صدام حسین کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ، کبھی معاشی پابندیوں کا طوفان، کبھی سفارتی تنہائی، کبھی سائنسی ترقی روکنے کی کوششیں، کبھی فوجی دھمکیاں، اور کبھی اندرونی انتشار پیدا کرنے کی تدبیریں۔

مختلف ادوار میں متعدد عالمی رہنماؤں اور حکومتوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ایران زیادہ دیر تک اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔مگر تاریخ نے ایک مختلف منظر دیکھا۔ ہر بحران کے بعد ایران دوبارہ کھڑا ہوا۔ ہر پابندی کے بعد اس نے نئے راستے تلاش کیے۔ ہر دھمکی کے بعد اس نے اپنے دفاع کو مزید مضبوط کیا۔ ہر آزمائش کے بعد اس کے حامیوں نے اسے استقامت کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ سیاسی تجزیہ نگار اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ کوئی اسے داخلی نظم و ضبط کا نتیجہ کہتا ہے، کوئی دفاعی حکمتِ عملی کا، کوئی علاقائی سیاست کا، اورکوئی عوامی مزاحمت کا۔ لیکن انقلابِ اسلامی کے حامی ایک اور جواب دیتے ہیں، اور وہ جواب کسی سیاسی مفکر کا نہیں بلکہ قرآنِ حکیم کا ہے۔ ارشاد خداوند ذوالجلال ہے :

"اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ۔"

یہ ایک مختصر آیت ہے، مگر اس میں تاریخ کے بے شمار راز پوشیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں۔ اس کی نصرت سے مراد اس کے دین، اس کے عدل، اس کی ہدایت، اس کے احکام اور اس کی مقرر کردہ اخلاقی اقدار کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ جب کوئی قوم اپنی خواہشات کے بجائے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے، جب وہ مشکلات کے باوجود اپنے نظریے پر ثابت قدم رہتی ہے، تو قرآن وعدہ کرتا ہے کہ اللہ اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کے قدم جما دیتا ہے۔ یہ وعدہ کسی خاص نسل، قوم یا زبان کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس گروہ کے لیے ہے جو واقعی اللہ کے راستے کو اپنا راستہ بنا لے۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ بھی ہے۔ اللہ کی نصرت کا دعویٰ زبان سے کرنا آسان ہے، مگر اللہ کی نصرت کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کے لیے عدل قائم کرنا پڑتا ہے، ظلم سے اجتناب کرنا پڑتا ہے، امانت و دیانت کو فروغ دینا پڑتا ہے، حق گوئی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اور ذاتی مفاد سے بلند ہو کر اجتماعی خیر کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔ اگر کوئی معاشرہ ان اصولوں کو چھوڑ دے، تو صرف مذہبی نعروں سے قرآنی وعدے حاصل نہیں ہوتے۔ ایران کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ کوئی اس کی پالیسیوں سے اتفاق کرتا ہے، کوئی اختلاف۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس نے کئی دہائیوں پر محیط شدید دباؤ کے باوجود اپنی ریاستی ساخت کو برقرار رکھا ہے۔ اس صورتِ حال کی تشریح مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے اس میں ایک قرآنی سبق ضرور موجود ہے کہ استقامت، قربانی اور مقصد سے وابستگی قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

آج اصل سوال ایران کا نہیں، ہمارا ہے۔ کیا ہماری زندگیوں میں اللہ کی نصرت کا کوئی عملی مفہوم موجود ہے؟ کیا ہماری سیاست، ہماری معیشت،ہماری عدالتیں، ہمارے تعلیمی ادارے اور ہمارے اجتماعی رویے قرآن کے بتائے ہوئے عدل، دیانت اور تقویٰ کے مطابق ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو ہمیں دوسروں کی کامیابی یا ناکامی پر بحث کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ قرآن کا وعدہ آج بھی زندہ ہے، کل بھی زندہ تھا، اور قیامت تک زندہ رہے گا:

"اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔"

یہی وہ اصول ہے جو افراد کو بھی سربلند کرتا ہے، قوموں کو بھی، اور تاریخ کے دھارے کو بھی بدل دیتا ہے

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے