قادرِ مطلق نے اپنے کلامِ مقدس میں جہاں دنیائے ستم کے خلاف آخری قیام کرنے والے مہدیِ موعود کا مختلف پیراؤں میں ذکر کیا ہے وہاں ان کے ظهور سے قبل دنیا میں ایسی نابغہء روزگار ہستیوں کی موجودگی کا ذکر بھی کھلے انداز میں کیا ہے جو انقلابِ مہدی کے لیے زمینہ سازی کا کام کریں گی۔ اگرچہ ہمارا دھیان اس طرف کم کم ہے۔
نمازِ جمعہ میں ہم جس سورہء جمعہ کی تواتر سے تلاوت کرتے ہیں اور سنتے ہیں ہم نے اسے زیادہ تر احکامِ نمازِ جمعہ کے تناظر میں ہی دیکھا ہے۔ شاید ہم نے اسے اس نظر سے کم ہی دیکھا کہ خداوندِ قدوس نے اس سورہ میں ایک ایسی جماعت اور گروہ کا ذکر کیا ہے جنہیں فضیلت کے اعتبار سے رسولِ خدا کے اصحاب میں سے قرار دیا گیا ہے اور جو آخری زمانے میں ظهورِ امامِ زمانہ سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ ان سے آگاہی حاصل کر کے ہم آخری زمانے کے طوفانی فتنوں میں اپنی سمت درست رکھ سکتے ہیں۔ صحیح مسلم کی جلد: 4 ، ص:47 میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ,
"ہم رسولِ خدا کے پاس تھے کہ سورہء جمعہ نازل ہوئی۔ پس حضرت نے اس کی تلاوت فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ اس جگہ پہنچے "وآخرين منهم لما يلحقوابهم " تو رسولِ خدا سے ایک صحابی نے پوچھا کہ وہ کون ہیں جو ابھی تک ہم سے ملحق نہیں ہوئے ہیں۔ سلمان فارسی اس وقت ہم میں موجود تھے۔ پس رسولِ خدا نے سلمان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا پر بھی ہوا تو اس کی قوم کے مرد اسے وہاں سے اتارے لائیں گے۔”
جس طرح رسول الله نے میدانِ غدیرِ خم میں سب کے سامنے امیرالمؤمنین کا ہاتھ بلند کر کے اور سب کو دکھا کر اپنے بعد آنے والے حالات میں امت کی امامت کے لیے ان کی پہچان کروائی تا کہ بعد میں آنے والے امیرالمؤمنین کے علاوہ کسی اور کا نام بدل کر علی نہ رکھ لیں، اسی طرح رسولِ خدا نے تمام صحابہ کے سامنے جنابِ سلمان فارسی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بتایا کہ زمانہء آخر میں سلمان فارسی، جو میرے اہل بیت میں سے ہے، اس کی قوم کے بعض افراد ہیں جو زمانہء آخر کے فتنوں میں امت کی رہنمائی کریں گے۔
آج کے مفسرین نہ جانے کیوں اس حدیث اور اس سے ملتی جلتی احادیث سے چشم پوشی کرتے ہیں؟ قابلِ غور ہے کہ آخر "وآخرين منهم” والی آیتِ مبارکہ کو سورہء جمعہ کی ہی زینت کیوں بنایا گیا ہے؟ وہ سورہ جس کی تلاوت ہر جمعے کے خطبے میں کی جاتی ہے۔ یقیناً اس میں غوروفکر کا کافی سامان موجود ہے۔ ہمارے علماء کو صرف رسمی طور پر ہی اس سورہ کی تلاوت نہیں کرنی چاہیے بلکہ زمانے کے جدید تقاضوں کو سامنے رکھ کر اس سورہ کو زیادہ سے زیادہ اپنے خطابات کا موضوع بنانا چاہیے۔
احادیث میں امامِ مہدی کے ظهور سے قبل جہاں مختلف قسم کے واقعات اور حادثات پر روشنی ڈالی گئی ہے وہاں ایک بہت بڑے فتنے ، فتنہء شام اور اس سے جڑے دوسرے بڑے فتنے "فتنہء فلسطین” کا ذکر کیا گیا ہے۔ فلسطین کا فتنہ وہ آتش فشاں ہے جو آج پھٹ چکا ہے اور اس کے بطن سے "طوفانِ اقصیٰ” جیسے طوفان جنم لے چکے ہیں۔ روایات میں مرکوز ہے کہ ظهورِ امامِ زمانہ سے قبل فلسطین میں ایسے ایسے مظالم ہوں گے جو اس سے پہلے دنیا نے دیکھے نہیں ہوں گے۔ آج اسرائیلی حکومت مظلوم فلسطینیوں پر جس طرح کے مظالم ڈھا رہی ہے، یقیناً ایسے مظالم دنیا نے اس سے قبل نہیں دیکھے تھے۔ لیکن آفرین ہو سلمان فارسی کی قوم پر اور اس کی قیادت پر، جو محض ایران کی قیادت نہیں ہے بلکہ تمام مستضعفینِ جہاں کی قیادت ہے، اس نے آج تمام دشمنانِ اسلام کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ علم جو کبھی خیبر میں رسول الله نے خیبر شکن کو دیا تھا، آج وہ خیبر شکن کے وارثوں کے ہاتھ میں ہے۔ علم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میں وہ دن اور آج کا دن اب علم ہمارا ہے-
لمحہء موجود میں امریکہ اور اسرائیل اپنے تمام لاؤ لشکر کے ساتھ قومِ فارس کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ جب کہ زیادہ تر عرب ممالک امریکی اڈے ہیں۔ لیکن اب یہ اڈے تباہی کا شکار ہیں اور ان سے اٹھتا ہوا دھواں انہیں امریکہ کے دیے ہوئے تحفظ کا مذاق اڑا رہا ہے۔۔ تنویر حیدر